Aazad Panchi - آزاد پنچھی garadiya Pages: 319
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Nov 5 - Nov 10
Pay in 4 interest-free payments of $112.50 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Nov 5 - Nov 10
Pages: 319
اندھے موڑ
جب ایک فن کار کمال کو پہنچتا ہے تو وہ جو فن پارہ تخلیق کرتا ہے وہ اس فن کار سے علیحدہ اپنا تشخص اختیار کر لیتا ہے۔ اس مقام پر فن کار اور فن پارہ دو لوگ ہو جاتے ہیں۔ فن پارے کے کردار آزاد ہو جاتے ہیں، ان کی بود و باش، مزاج اور شخصیت فن کار کی قید سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی بستیاں اپنے فطری ارتقا سے متنوع اور منفرد ساخت اختیار کرتی ہیں، فن پارے کا ماحول اور اس کی ثقافت اس کی اپنی ہوتی ہے۔ اس منزل پر وہ فن کار کے بجائے ایک قاری، ایک ناظر، ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فن کار کرداروں کی فطرت اور مزاج کا تابع بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لطیف مقامِ تخلیق تک خوش نصیب مہا فن کار ہی پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مقام جہاں تخلیق کار چھو کر مٹی کے باوے زندہ کر دے، سیاہ و سفید الفاظ میں بکھری دُنیا کو رنگین گُل و گُل زار کر دے، اوراق میں لپٹی خاموشی کو زبان دے دے اور قاری کو ایک جہانِ رنگ و بُو کے بیچ لا کھڑا کرے، اس مقام پر گاہے تخلیق کار کی ذات کا پَرتو تخلیق پر پڑتا ہے اور گاہے تخلیق کا رنگ خالقِ فن پر اُترتا ہے، البتہ گاہے گاہے، کہ یہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کے تخلیق وفور کے سرکش، سر پٹکتے، اُچھلتے، چھینٹیں اُڑاتے دریا نے ’’کماری والا‘‘ کی تخلیق کے بعد ایک پُرسکون، لامتناہی، گہرے، بھید بھرے سمندر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس ناول نے اسے اُردو ادب کے ان چند اعلیٰ ادیبوں میں شامل کر دیا ہے جو مذکورہ لطیف مقامِ کمال تک جاتی راہ کے قافلے کے مسافر ہیں، وہی مقام جہاں فن پارہ فن کار کی قید سے آزاد ہو کر ضوفشاں ستارہ بن جاتا ہے۔
گریک ٹریجڈی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کی بات کی۔ وہ اقتدار پہ ایک عوامی بغاوت کے نتیجہ میں پہنچتے ہیں۔ اقتدار کا ناجائزاستعمال کرتے ہیں۔ اس شخص کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہوتے ہیں جو ان کی اپنی تخلیق ہے۔ انھیں پھانسی دے دی جاتی ہے۔ ان کے چھوٹے بیٹے شاہنواز کو فرانس میں پُراسرار حالات میں زہر دے دیا جاتا ہے۔ بڑابیٹا دہشت گرد گروپ بناتا ہے جو متعدد لغویات کے باوجود طیارہ اغوا کر لیتا ہے اور کم از کم دو مرتبہ پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے قریب پہنچ جاتاہے۔ بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی بے نظیر وطن میں رہتی ہے اسے کئی مرتبہ گرفتار کیا جاتا ہے اور پھر ’’جلاوطن‘‘ ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ لیکن وہ پھر وطن واپس آ جاتی ہے۔ جنرل ضیا کا طیارہ نامعلوم قاتلوں کے ذریعے فضا میں دھماکے سے اُڑا دیاجاتا ہے۔ ضیا کے بعد جرنیل عام انتخابات کی اجازت دے دیتے ہیں۔ بے نظیر انتخابات جیت کروزیراعظم بن جاتی ہے۔دو سال سے پہلے اسے برطرف کر دیاجاتا ہے۔ تین سال حزبِ اختلاف میںرہنے کے بعد وہ پھر اقتدار میں آ جاتی ہے۔ مرتضیٰ واپس وطن آ جاتا ہے اور کھلے بندوںاپنی بہن اوربہنوئی آصف زرداری سے لڑتا ہے۔ زرداری پر زبردست بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ بھٹو خاندان میں تنازع شروع ہو جاتا ہے۔ جس کا خاتمہ مرتضیٰ کا اپنے گھرکے سامنے کراچی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بننے کے ساتھ ہوتا ہے۔ بہن وزیراعظم ہے وہ بدحواس ہو جاتی ہے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد اس کے اپنے بنائے صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں اس کی برطرفی ہوتی ہے۔ آصف زرداری کو جیل میں ڈال دیاجاتا ہے۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ آصف زرداری پہ مرتضیٰ کے قتل کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔ لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ طارق علی 18 جولائی 1997ء لندن
Pages: 588
Aazad Panchi - آزاد پنچھی garadiya Pages: 319Pages: 312 Category: Novel
US$ 15.00
US$ 15.00
US$ 34.00
US$ 19.00
US$ 149.00
US$ 44.00
US$ 12.00
US$ 15.00
US$ 10.00
US$ 57.00
US$ 45.00