Parizad - پری زاد Anhoniaan درجن بھر کہانی کتابوں کے
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 29 - Sep 3
Pay in 4 interest-free payments of $131.25 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 29 - Sep 3
درجن بھر کہانی کتابوں کے پاکستانی مصنف ممتاز ادیب ڈاکٹر ابدال بیلاکا یہ ناول اردوادب کا ایسا شاہکار ہے جواشاعت کے پہلے دن سے سیدھاکلاسیکل ادب کا حصہ بن رہا ہے ۔ دلچسپ ایسا کہ پڑھنے والے کو پکڑ کے بیٹھ جاۓ ۔ مجال ہے جوکوئی اسے پڑھناشروع کرے اورختم کیے بغیر دم لے لے۔ایک جام جہاں نما ہے ۔ موضوعات کی رنگارنگی ، نہ بھولنے والے کردار آرائش تشبیہات منظرکشی اور کمال جزئیات نگاری ۔ مہمات معلومات حسن ومحبت فلسفۂ تصوف اور انسانی نفسیات ۔ زندگی کا کونسارنگ ہے جوابدال بیلا نے نہ برتا ہو۔ انداز سیدھادل میں اترنے والا ہے ۔ ترکیب انوکھی کہ ایک نہیں کئی زمانوں میں بات کی گئی ہے۔ ایک طرف برٹش انڈیا اورقبل کی طلسماتی فضا ہے۔ساتھ آج کی دلفریب دنیا۔کہیں’’صاحباں‘‘طوائف کی ہوش رہائی ہے،کہیں’’سائیں بگوشا‘‘ کا دلوں پر راج ۔ کہیں’’رانی چان کور‘‘ کی راجیہ ہے کہیں ’’میم صاحب‘‘ کا سنہراذکر ’’ارمیلا‘ کے ساتھ ہیجان انگیز ٹرین کا سفر ہے تو کہیں’نا نگا‘‘ برما کا عفریت ۔ دیوارام کا اندھا بے بس قتل ہے تو کہیں’’ڈاکو بھگت سنگ‘ کی کبیر جگتی۔ ’’لال خان‘‘ سے ’’دہلی کی آخری کہانی تک ‘‘ غالب کے عہد کاحسن ثقافت ہے تو سیستان کے قصے بھی ۔’’ ہرنس کور‘ کی لائی لال آندھی ہے تو و ہیں’’گملوں والی حویلی‘‘ کی اداس داستان بھی ۔اتنی کہانیوں کا ہجوم ہے پھر بھی ہر کردار ہر کہانی ہر واقعہ ہیرے کی کنی سے تراشا تیکھا اور نا قابل فراموش ۔
Pages: 1008
کرشن چندر نے اُردو افسانہ نِگاری میں جو رنگ پیدا کیا ہے وہ بالکل ایک نئی چیز ہے۔ اور شاید اس وقت کرشن سے زیادہ کامیاب افسانہ نِگار کوئی نہیں۔ اس کے افسانوں میں ہمیں رومان و حقیقت کا امتزاج مِلتا ہے جو ہندوستانیوں کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی فطرتاً تخیّل پرست اور رومانی ہیں۔ لیکن وقت اور ماحول کے تقاضوں نے ان کو حقیقت پرست اور واقعیت پسند بھی بنا دیا ہے۔ وہ اپنے انفرادی اور شخصی پہلوؤں پر نظر رکھتے ہیں اور ان میں سے زیادہ کسی اجتماعیت کو ساتھ لے کر نہیں چلتے۔ فنّی اعتبار سے وہ اُردو کا بہت بڑا افسانہ نِگار ہے۔ اس نے افسانہ اور سکیچ کے امتزاج سے اُردو افسانہ نِگاری میں بالکل ایک نئی راہ نکالی ہے جو خود زندگی سے زیادہ قریب ہے۔ اس کے بعض افسانے تو بالکل سکیچ معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی حیرت خیز صنّاعی ان میں بھی افسانویت کی ایسی جھلکیاں دکھاتی ہے جن کا کہانیوں میں بھی ملنا مُشکل ہے۔ اس قسم کے افسانوں کے ہر اشارے اور ہر کنائے میں ایک کہانی ہوتی ہے۔ کرشن کا اسلوبِ بیان اور طرزِ ادا دِل کش ہے اور شاید ایسی پیاری زبان اور شعریت سے اتنا بھرپور اسلوبِ بیان اُردو کے بہت کم افسانہ نِگاروں کو نصیب ہوا ہے۔ وہ بذاتِ خود اُردو افسانہ نِگاری کا ایک اسکول ہے جس کی بُنیاد اس نے خود ہی ڈالی اور جس کو وہ خود ہی پروان چڑھا رہا ہے۔(ڈاکٹر عبادت بریلوی)کرشن چندر اُردو کے صفِ اوّل کے افسانہ نگاروں میں ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے وہ سب سے اچھے افسانہ نِگار ہیں اور اس قول کو آسانی سے رَد نہ کیا جا سکے گا۔ ان کے افسانوں میں تازگی اور شگفتگی، شادابی اور رعنائی ہے، زبان کی لطافت، تشبیہوں کی جدّت، اُسلوب کی ندرت، موضوع اور طرزِ بیان کی ہم آہنگی، موضوع اور مواد کی سماجی اہمیت، انسانیت کا درد اور اس کی ترقّی کی اُمید، یہ باتیں جس افسانہ نِگار میں اکٹھی ہو جائیں، وہی ساحری کر سکتا ہے۔ کرشن چندر اس لحاظ سے ساحر ہیں اگر وہ کبھی کبھی یہ احساس نہ دلائیں کہ حُسن صرف پہاڑوں اور وادیوں میں ہے۔ ان کے افسانوں سے یہ ترغیب نہ پیدا ہو کہ ’’فطرت‘‘ بذاتِ خود حسین اور مکمّل ہے تو شاید تخیُّلی حیثیت سے بھی ان کے جادو پر شک نہ کیا جا سکے۔ کرشن چندر کے افسانے پڑھے جانے کا اور ان کا فن مطالعہ اور غوروفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔(پروفیسر احتشام حسین)
Stoopo ka shehr Swat
This is the first volume of a series of books by veteran journalist Najam Sethi on Pakistan’s sputtering journey under democracy from 1988 to 2021 after it emerged from a stifling decade of autocracy under Z A Bhutto from 1972-1977 and ruthless dictatorship under General Zia ul Haq from 1977 to 1988
Parizad - پری زاد Anhoniaan درجن بھر کہانی کتابوں کےPages: 240 Category: Novels